009 - آدھا سچ، تحریر۔۔۔۔ روشنی (ایڈیٹرز چوائس)۔

روشنی
آدھا سچ

فلوریڈا میں اک دھند بھری صبح دھرتی پر اتری تھی، جمعرات کا دن تھا، منتہا اپنی خالہ زاد نیلم کو لے کر بیگم سراج کے گھر درس سننے آئی ہوئی تھی، آج کا موضوع مرد و عورت کے باہمی تعلقات تھا، بات شوہر کی قدرو منزلت، عورت کے ایثار و مرتبہ سے شروع ہو کر کثیر الازدواجیت پر جا پہنچی تھی ،
"اور اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی اپنے شوہر کو سجدہ کرتی۔"
بیگم سراج کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
"اور مرد عورتوں پر حاکم ہیں "
نیلم سخت بدمزہ ہو رہی تھی، اور توجہ سے درس سنتی منتہا کو بار بار کہنی سے ٹہوکے مار رہی تھی، کہ اب چلنا چاہیے۔ اللہ اللہ کر کے درس اختتام کو پہنچا۔ نیلم بھاگنا ہی چاہتی تھی مگر منتہا نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ رکھا تھا، اس نے شائستگی سے بیگم سراج سے اجازت چاہی، باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر درس کی خواہش کالونی کے کسی مرد نے کی تھی، جو دوسری شادی کا خواہشمند ہے۔ اتنے میں ایک تیرہ سالہ بچے نے بیگم سراج کے کان میں آکر کچھ کہا اور پھر چلا گیا۔
"یہ بچہ؟ " نیلم نے استفسار کیا
"میرا بیٹا ہے، پچھلے سال ایک حادثے میں اسکی بینائی چلی گئی تھی۔ "
بیگم سراج نے کہا
ان دونوں نے بیگم سراج سے افسوس کیا اور ان کے گھر سے باہر نکل آئی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

"آج اتنا ثقیل "مرد نامہ" سنوانے کے جرم کی پاداش میں آپ مجھے دعوت عظمٰی کھلائیں گی۔"
نیلم نے گاڑی میں بیٹھتے ہی فرد جرم عائد کر دی۔
اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ قریبی ریستوران میں بیٹھی مٹن پزا اٹالینو اور چکن سینڈوچز کے ساتھ انصاف کر رہی تھی۔
"محترمہ نیلم! آپ کو "مرد نامہ" سے کیا پرخاش ہے؟"
منتہا نے سوال کیا۔
"مرد کی حاکمیت اور اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔"
اس نے سچائی سے کہا۔
"یہ تم جو چبا چبا کر کھا رہی ہو، یہ بھی اک جان تھی جو تمہارے منہ کے ذائقے پر قربان ہو گئی، اس کی کم مائیگی کا احساس نہیں ہوتا۔"
منتہا نے اسے لتاڑا
"بنانے والا بہتر جانتا ہے، کس کی جگہ کہاں ہے، یہ تو نظام دنیا چلانے کے اسباب ہیں، جو ہر کسی کے مقام کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس ضابطہ حیات پر اطمینان ہونا چاہئے کہ خالق تو سب سچوں کا سچا اور سب سے بڑھ کر منصف ہے، پھر خود ترسی اور بد اعتمادی کی کیا جگہ رہ جاتی ہے۔"
اس نے دلیل کے ذریعے جواب دیا
"تم مطمئن ہو محکوم بن کر؟" نیلم نے اور سوال داغا
"ہاں، مجھے اپنے عورت ہونے پر اطمینان ہے اور حاکم کا تصور میرے ذہن میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ کتنی پیاری حکومت کی نا انہوں نے اپنی ازواج پر۔"
منتہا کہہ کر مسکرا دی۔
"تم کچھ بھی کہو ، اب اس درس کی صورت کالونی کی جس عورت تک پیغام پہنچایا گیا ہے، اس کی زندگی میں جو بھونچال آئے گا، اس کا کچھ اندازہ ہے تمہیں؟"
نیلم نے فکرمندی سے کہا
"غم نہیں کرو، مجھے یقین ہے کم سے کم ‘ وہ تم نہیں ہو گی۔"
منتہا نے کہا اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔
اس نے دستی گھڑی پر وقت دیکھا، بچوں کی چھٹی ہونے والی تھی، اس نے بل بھرا، آج نیلم دس سالہ واثلہ اور پانچ سالہ نمرہ کو اپنے ساتھ لے جا رہی تھی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

شام گہری ہو رہی تھی، سالک کے آنے کا وقت ہو رہا تھا، آج منتہا تیار بھی اہتمام سے ہوئی تھی، کچھ تازہ تازہ سنے درس کا اثر اور کچھ رگ وجاں تک اتری اسکی محبت کا نشہ، اس کے دل میں اپنے شوہر سالک کی قدرو منزلت بڑھا گیا تھا، اس نے آئینے میں اپنے سراپے پر حتمی نظر ڈالی اور قدموں کی مخصوص چاپ سنتے ہی کمرے سے باہر آگئی۔ سالک اسے نظرانداز کرتے ہوئے کمرے میں آکر بستر پر نیم دراز ہو گیا، منتہا بھی نہ سمجھنے والے انداز میں اس کے پیچھے آ گئی۔
"آپ کے لئے کھانا لگاؤں؟" اس نے پیار بھرے انداز میں اسکا سرسہلاتے ہوئے پوچھا
سالک نے دھیرے سے اسے الگ کیا اور گویا ہوا۔
"جو بات میں تم سے کہنے جارہا ہوں، ممکن ہے تم تک پہنچ گئی ہو، بہر حال"، وہ اپنی بات کرتے ہوئے ذرا رکا
"میں سینڈرا سے شادی کرنا چاہتا ہوں، وہ میری خاطر مسلمان ہونے کو تیار ہے، یہ میرا جائز حق بھی ہے، مجھے امید ہے آج کے درس نے تمہیں ذہنی طور پر تیار بھی کر دیا ہو گا"
سالک کی آواز نے اسکے اندر دھماکے پیدا کر دئیے۔
منتہا کی گہری مسلسل خاموشی اس کے لئے اطمینان کا باعث بن رہی تھی، اس نے اپنی بات جاری رکھی
"میری شادی سے تمہاری قانونی و سماجی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا، میں سینڈرا سے اپنی شادی کا اندراج نہیں کراؤں گا۔"
وہ اتنی آسانی اورسہولت سے کہتا گیا گویا کوئی بات ہی نہ ہو۔
منتہا صدمے سے چور حیران و پریشان کھڑی تھی، وہ سوچ رہی تھی، اس کی محبت، خدمت اور وفا کی دیوار میں ایسی کونسی اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی تھی، جس کا خلاء پر کرنے کے لئے سالک یہ قدم اٹھا رہا ہے۔ یا پھر مرد کی طبیعت ہی تغیر پسند ہے، جو ایک جیسے منظر کی یکسانیت سے اکتا کر اپنے خوابوں میں نئے رنگ بھرنے کو کسی بھی پل تیار ہو سکتا ہے، چاہے اس کے لئے اسے بسا اوقات کسی کے خواب اسکی آنکھوں کے سمیت نوچنے ہی کیوں نہ پڑ جائیں۔
"میں تم سے اجازت طلب نہیں کر رہا، یہاں کئی لوگ ایسے رہ رہے ہیں، پھر بھی اگر تم میرے ساتھ نہ رہنا چاہو تو تم اپنے فیصلے میں آزاد ہو۔"
اس کے انداز، الفاظ اور تیور بتا رہے تھے وہ فیصلہ کر چکا ہے۔
وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی،ایک سے زائد شادیوں کی رعایت کے ساتھ وابستہ شرط عدل کو نبھا پاؤ گے؟ کہیں تمہیں ملنے والی یہ آسائش تین زندگیوں کے لئے عمر بھر کی آزمائش نہ بن جائے۔ لیکن الفاظ اسکے حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئے۔
"مجھے نئے رشتے استوار کرنے میں کچھ وقت لگے گا، اس لئے میری غیر حاضری سے پریشان نہیں ہونا"، اس نے اسے کچھ رقم تھمائی، اور اسکی خاموشی کو رضامندی جان کر گھر سے چلا گیا۔
آج زندگی میں پہلی بار وہ اتنا روئی جتنا کسی کے مرنے پر بھی نہ روئی ہوگی، اس کے ارد گرد گھمبیر سناٹا تھا، جیسے درد کی دنیا آباد ہوگئی ہو۔

٭- - - ٭ - - - ٭

اگلے دن نیلم بچوں کو لے کر آئی تو اس کی متورم آنکھیں، مضحمل چہرہ اور نڈھال وجود دیکھ کر ساکت ہوگئی۔
"منتہا! تم؟"
اس نے استفسار کیا۔
منتہا کچھ کہے بغیر اسکے گلے لگ کر رونے لگی اور نیلم سب سمجھ گئی۔ کالونی کی وہ عورت منتہا تھی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

دن گزرتے رہے، سالک نئی زندگی میں گم ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھنا بھول گیا۔ نمرہ باپ کی جدائی میں بیمار پڑگئی۔
"بابا! بابا!" وہ نیم بے ہوشی میں بھی سالک کو یاد کر رہی تھی۔
منتہا اسکے سر پر گیلی پٹیاں رکھ کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اتنی دیر میں واثلہ کے اسکول سے فون آگیا کہ اس نے کسی بچے کا سر پھوڑ دیا ہے، اس نئی افتاد پر وہ بے انتہا گھبرا گئی، نیلم کو نمرہ کے پاس چھوڑا اور خود واثلہ کے اسکول چلی گئی۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ پرنسپل روم میں واثلہ کے پاس بیٹھی اس سے باز پرس کر رہی تھی۔
آپ نے ڈیوڈ کو کیوں مارا؟
وہ میرا مذاق اڑا رہا تھا کہ بابا مجھے چھوڑ گئے ہیں، مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اسکا سر دیوار سے دے مارا۔
واثلہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
منتہا ششدر رہ گئی، باپ کی کمی اس حد تک بچوں پر اثر انداز ہو گی اس نے سوچا تک نہ تھا، اس نے پرنسپل سے معذرت کی اور واثلہ کے ذہنی سکون کے لئے ایک ہفتے کی تعطیل لے کر گھر آ گئی، نمرہ ہنوز بیمار تھی، بالآخر اسے ہسپتال لے کر جانا پڑا، وہ مسلسل سالک کو فون کر رہی تھی، مگر اسکا جواب نہیں آ رہا تھا، ہسپتال میں اسے بیگم سراج اور انکا بیٹا ریحان نظر آیا، نمرہ کی طبیعت سنبھلی تو وہ ان کے ساتھ ہی گھر آگئی۔
واثلہ ریحان کے ساتھ خوش نظر آرہا تھا، منتہا بھی اک پل کو ان کے پاس چلی آئی۔
آپ کو اندھیرے سے ڈر نہین لگتا، ریحان بھائی؟
واثلہ نے سوال کیا۔
جب اللہ نے مجھ سے باہر کی روشنی لے لی تو میرے دل کو پر نور کر دیا، جیسے دن کی روشنی آسمان پر چھپے ان گنت ستاروں کو ڈھانپ دیتی ہے، اور رات کی تاریکی میں گو کہ پاس پڑی شے سے ٹھوکر لگ جانا عام ہو مگر فلک کے اس پار اک دوسرے جہان کی دریافت کر دیتی ہے، جس پر ایک نہیں بے انتہا سورج ہوتے ہیں اور میں بھی کسی ایسے ہی جہان کا سراغ لگا رہا ہوں۔
ریحان نے متانت سے جواب دیا۔
منتہا اس چھوٹے سے بچے کی بات سن کر بہت حیران ہوئی، اس نے بھی اپنے اوپر سے اداسی اور پژمردگی کا لبادہ اتار پھینکا اور زندگی کے مشکل ترین وقت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کے لئے تیار ہو گئی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

اطلاعی گھنٹی بار بار بج رہی تھی، منتہا نے نمرہ کو سلا کر کمرے کی بتی گل کی اور آکر دروازہ کھولا، سامنے سالک تھا، وہ اس پر ناراض ہونے لگا، کہ اتنی دیر انتظار کروایا۔ اس وقت اس نے سوچا کاش جو مرد دوسری، تیسری شادی یاد رکھتے ہیں وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بھی پڑھ لیتے، جس میں وہ کمال ضبط سے ان کا شک رفع کرتے ہیں۔

٭- - - ٭ - - - ٭

وقت کا پہیہ چلتا رہا، سالک ڈیڑھ سال میں فقط آٹھ ہفتے ہی منتہا اور بچوں کو دے پایا، اور جب سینڈرا کے ہاں جڑواں بچیوں کی ولادت ہوئی تو اس کی فرمائش پر اس نے منتہا کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تا کہ وہ سینڈرا اور بچیوں کو قانونی طور پر اپنا سکے۔ اور منتہا ہمیشہ کی طرح خاموش رہی، اس بیتے ہوئے عرصے میں وہ اتنی حقیقت تو جان ہی چکی تھی، کہ رشتے خدا نہیں ہوتے، زندگی ان کے بغیر بھی بہر طور گزر ہی جاتی ہے، ہم یونہی محبت کو بت بنا کر دل میں پوجتے رہتے ہیں، جب یہ بت پاش پاش ہوتا ہے، تو آگاہی کا اک سرا ہاتھ میں آتا ہے، کہ جب بھی کسی رشتے یا تعلق کی موت ہوتی ہے، تو ہمارا رب ہمارے ساتھ تنہائی چاہتا ہے، اور منتہا نے اس تنہائی کو من و عن قبول کر لیا تھا۔

٭- - - ٭ - - - ٭

اک دن نیلم کا ٹکراؤ سالک سے ہو گیا، تو اس نے اسے روک کر کہا۔
"اب جبکہ آپ منتہا سے علیحدہ ہو چکے ہیں، تو اسلام اسے بھی نئی زندگی گزارنے کا اختیار دیتا ہے، مگر آپ کے جیسے مرد اسے تو قبول کر لیں لیکن بچوں کو نہیں اپناتے، تو کیوں نہ آپ اپنی ذمہ داری خود ہی اٹھا لیں۔" نیلم نے جسے دھماکہ کر دیا۔
سالک نے فق چہرے سے اس کی طرف دیکھا اور پھر مڑ کر چلا گیا۔ چند دنوں بعد نیلم کو خبر ملی کہ سالک کالونی چھوڑ کر چلا گیا ہے، مبادا منتہا بچے اسکے سر ہی نہ تھوپ دے۔ آنے والے دنوں میں کئی بار نیلم کو افسوس ہوا کہ اس نے یہ مذاق کیوں کیا، بچے جو مہینے میں اک بار باپ کی صورت دیکھ لیتے تھے، اس سے بھی محروم ہو گئے۔ وہ یتیم نہیں تھے مگر ان کی زندگی یتیموں کا سا حال ہی پیش کر رہی تھی، منتہا نے گھر اور زیور بیچ کر ایک اسٹور خرید لیا اور زندگی کی گاڑی چلانے لگی۔ گھر اور باہر کی دہری ذمہ داری اٹھاتے اٹھاتے کبھی اس کی نگاہ بچوں پر پڑتی تو ان کے بے رونق چہرے اسے مضحمل کر دیتے۔ جب معاش کی ناؤ کنارے لگی تو اس نے بچوں پر توجہ دینی شروع کی، انہیں ان کہے سوالوں کا جواب دینے کے لئے اک واقعہ سنایا۔
"آپ جانتے ہو اس زمین پر موت کو دو انسانوں پر ترس آیا، ایک بے یارومددگا، سمندر کی لہروں میں اچھلتا شیر خوار بچہ، جسکی ماں کی روح قبض کرنی تھی، اور دوسری بار خدائی دعٰوی کرنے والے شداد کی جو اپنی بنائی ہوئی جنت کو اک نظر دیکھ بھی نہ سکا اور جانتے ہو وہ وہی بچہ تھا، جو سمندر میں تنہا، خوفناک لہروں کے بھنور میں رہ گیا تھا، لیکن اللہ تعالٰی نے اسے رتبہ اور جاہ وجلال دیا۔
اس میں ہمیں دو باتوں کا سبق ملتا ہے، ایک تو سب رشتے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، جب رب عطا کرنا چاہے تو وہ اس تنہا انسان کو بھی عطا کر دیتا ہے جو آنے والے وقت دنیا کے بد ترین انسانوں میں سے ہونے والا ہو، اسے تو سب خبر ہوتی ہے، جب وہ ایسے انسان کو بھی بے بسی میں بے یارومددگار نہیں چھوڑتا تو کیا ہمیں تنہا چھوڑ دے گا۔ نہیں۔ اگر اللہ ہم سے چند بے مول رشتے لے بھی لیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ وہ ذات ہمیں اپنے سے قریب کرنا چاہتی ہے، اللہ پر اعتبار کرنا سیکھو، زندگی سہل ہو جائے گی۔"
اور بچے اس کی کہی باتوں کے معنی میں زندگی کا تعارف ڈھونڈنے لگے تھے۔ اور یہی اس کی جیت تھی۔

٭- - - ٭ - - - ٭

زندگی کے ماہ وسال یونہی سرکتے رہے، بچے اپنی تعلیمی مراحل طے کر کے منزل کو چھونے ہی لگے، کہ اک رات خاموشی سے موت نے منتہا کو آ لیا۔
واثلہ نے باپ سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ اسے نہ ملا۔
جنازہ سے پہلے اس نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کو منتہا کے لاکر میں رکھا تو اسے وہاں طلاق نامہ نظر آیا، جس سے اسکے غم میں منوں اضافہ ہو گیا۔ وہ کتنی بڑی حقیقت سے بے خبر تھا۔
اپنی ماں کو لحد میں اتارنے کے بعد وہ وہیں بیٹھ گیا، اس کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر ماں کو پکارا۔
"جب کسی کا باپ فوت ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں وہ یتیم ہو گیا، لیکن میں تو ماں آپ کے مرنے سے یتیم ہوا ہوں۔"
"ماں! آپ کہتی تھیں، جب اللہ کوئی رشتہ ہم سے جدا کر دیتے ہیں تو وہ ہم سے تنہائی چاہتے ہیں، آج آپ سے سارے رشتے دور کر دئے گئے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے آپ کی تنہائی اللہ کے ساتھ آباد ہوگی، ان اندھیروں میں کہیں آپ کے لئے چھپی ہوئی روشنی ہوگی، جسے ہماری آنکھیں نہیں پا سکتیں۔"
وہ بے آواز رو رہا تھا۔
"آپ کی تمام زندگی ایک آدھے سچ کی نظر ہوگئی، وہ سچ جس میں سے عدل کو نکال دیا گیا، اک سجدہ حضرت آدم علیہ السلام کو ملا تھا، جس نے ساری نوع انسانی کو جنت و دوزخ کے بیچ معلق کر دیا اور وہ اس کی اہلیت ثابت ہونے پر ہی انسانیت کی معراج تک پہنچ پائیں گے، اور جو ناکام ہوں گے انہیں شیطانیت کا ساتھ ملے گا۔ اور اک سجدے کا ذکر۔۔۔۔۔۔ صرف ذکر ہوا ہے، لیکن جو مرد کو ملا نہیں، اس تعظیم و بزرگی کو پانے کے لئے بھی مرد ہونا ضروری ہے، نا کہ وہ مذکر جو اپنی ہی شہوت پوری کرنے کے نشے میں ہو، ذمہ داری سے آزاد اور فرائض سے بے بہرہ۔ "
"آج میں نے آپ کو مٹی کے سپرد کر دیا ہے، مگر آپ کی ہر سسکی، سارا کرب اپنی ذات کے اندر اتار لیا ہے، اسلئے تا کہ میں اس تعظیم کا حق ادا کر سکوں جو مجھے عطا کی گئی۔"
دور بادلوں میں کہیں اک بجلی سی کوندی تھی، جیسے کوئی روح زمین کو دیکھ کر مسکرائی ہو۔