016 - اس ماہ کی شاعرہ:کِرن رُباب نقوی

اس ماہ کی شاعرہ:

کِرن رُباب نقوی

غزل۔1

پیار گر ہے تو یہ کہنے میں قباحت کیسی ؟
خود کو منوا نہ سکے جو، وہ محبت کیسی ؟

یہ ضروری تو نہیں جاں کے عوض دِل بھی مِلے
عشق کے کھیل میں جاناں ! یہ تجارت کیسی ؟

جان و دِل دے کے کبھی دیکھ لو ہمدم میرے
سونپ دینے میں ہوا کرتی ہے راحت کیسی

سامنے آ کے اچانک یہ سمجھ سکتے ہو
سُونی آنکھوں میں اُترتی ہے شرارت کیسی

تُم نے خود مُجھ سے کہا تھا نا چلے جانے کو ؟
اب یہ سامان بندھا دیکھ کے حیرت کیسی ؟

ایک لمحے میں مری رُوح کا سودا کر لو
جان دینی ہے تو پھر اُس میں یہ مہلت کیسی ؟

مُجھ سے مت پُوچھ مرا ساتھ ترا حق ہے، کِرن
چیز اپنی ہو تو پھر اُس میں اجازت کیسی ؟

***

غزل۔2

بے وضو دیکھا، نگاہیں جل گئیں
بے سبب ساری وفائیں جل گئیں

آگ جنگل میں لگی کُچھ اِس طرح
سب پرندوں کی صدائیں جل گئیں

زرد رو پنچھی بچانے کے لیے
سبز رو پیڑوں کی بانہیں جل گئیں

کس کے دِل کی آہ کا ہو گا اثر
کس طرح ٹھنڈی ہوائیں جل گئیں

تھی تپش بھی اُس فضا میں اِس قدر
ایک دن کالی گھٹائیں جل گئیں

سب نے یہ دیکھا کہ بچے بچ گیا
یہ نہیں دیکھا کہ مائیں جل گئیں

غم نہیں کہ جل گیا دل کا نگر
دُکھ ہے یہ ساری دُعائیں جل گئیں

جل گئے وعدے اَنا کی آگ میں
اور اُن وعدوں کی آہیں جل گئیں

***

غزل۔3

لفظوں کی تجارت چھوڑ چُکے
یہ نام کی دولت چھوڑ چُکے

اَب دِل پہ کوئی بھی بوجھ نہیں
ہم عشق، محبت چھوڑ چُکے

تُم جان بھی رکھو، دِل بھی نہ دو
ہم مال کی قیمت چھوڑ چُکے

تُم رُوٹھ گئے، ہم لوٹ گئے
قسمت سے شکایت چھوڑ چُکے

کہنے کو ہی روک لیا ہوتا
اِتنی بھی مروٌت چھوڑ چُکے؟

اَب جان نہ خواہش توڑے گی
ہر ایک ہی حسرت چھوڑ چُکے

اَب درد پہ آنسو نکلیں گے
ہم صبر و قناعت چھوڑ چُکے

کُچھ لکھنے کو باقی نہ بچا
اُس نام کی عادت چھوڑ چُکے

***