002 - قطبین تک سفر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون

قطبین تک سفر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون
نمیرا سلیم ان پاکستانی خواتین میں شامل ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔ 1975ء میں وہ کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک سے انٹرنیشنل افئیرز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ پہلی مسلمان خاتون ہیں جنہیں قطب شمالی اور قطب جنوبی تک سفر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 21 اپریل 2007ء کو قطب شمالی اور 10 جنوری 2008ء کو قطب جنوبی سر کرنے کی مہم کے لئے ان کے والد نے فنڈز فراہم کئے تھے جو پیشہ وار زندگی میں پائلٹ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ قطبین پہنچ کر انہوں نے پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا پرچم بھی لہرایا تھا کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دبئی میں گزارا ہے اور جنوبی فرانس کے علاوہ مناکو میں بھی رہ چکی ہیں۔ نمیرا سلیم عنقریب ایک اور اعزاز بھی حاصل کرنے والی ہیں اور وہ اعزاز خلائی سفر کا ہے۔ نجی طور پر خلائی سفر کا اہتمام کرنے والی فرم "ورجن گیلیکٹک" کے مالک برطانوی ارب پتی رچرڈ برانسن نے 44 ہزار امیدواروں میں سے جن 100 افراد کو پہلی خلائی سیاحت کے لئے منتخب کیا ہے، ان میں نمیرا بھی شامل ہیں۔ مہم جو ہونے کے علاوہ نمیرا مجسمہ ساز، موسیقار، ڈیزائنر اور شاعرہ بھی ہیں۔ نمیرا سلیم کی مہم جو طبیعت نے ایک اور کارنامہ اس وقت انجام دیا جب انہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے اسکائی ڈائیونگ کی۔ 29 ہزار 4 سو 80 فٹ کی بلندی سے جب انہوں نے نیچے چھلانگ لگائی تھی تو فری فال کے دوران ان کے جسم کے ساتھ صرف ایک پیرا شوٹ بندھا ہوا تھا اور جو تھرمل جمپ سوٹ انہوں نے پہن رکھا تھا اس پر "اقوام عالم کے ساتھ پیغام امن" درج تھا۔ نمیرا سلیم اقوام متحدہ، یونیسکو اور سارک سربراہ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے امن اور خیر سگالی کا پیغام پہنچا چکی ہیں۔ انہوں نے لندن میں اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف کو وہ قومی پرچم پیش کیا تھا جسے وہ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر لہرا چکی تھیں جبکہ صدر آصف علی زرداری نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔