004 - قراقرم: گلیشیئرز کےحجم میں اضافہ

قراقرم: گلیشیئرز کےحجم میں اضافہ

فرانسیسی محققین کا کہنا ہے کہ دنیا میں مرتب ہونے والے موسمیاتی اثرات کے برعکس جنوبی ایشیا کے پہاڑی سلسلے قراقرم پر چند گلیشیئرز کے حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
فرانسیسی محققین کی یہ رپورٹ دی نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کی اس ٹیم نے مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر کی مدد سے جائزہ لیا۔ اس جائزے کے مطابق ہمالیہ کے پہاڑوں کے مغرب میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں چندگلیشیئر کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ اس کے اسباب کا اندازہ نہیں ہو سکا لیکن ایسا ہونا ہمالیہ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں پائے جانے والے گلیشیئرز کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ان کے حجم میں کمی آ رہی ہے۔ قراقرم کے گلیشیئرز سے نکلنے والے دریاؤں پر ایک ارب سے زیادہ افراد کا انحصار ہے۔
فرانسیسی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ انیس سو ننانوے اور دو ہزار آٹھ میں سیٹلائٹ کے ذریعے ’لینڈ سروس ایلیویشن‘ کے دو ماڈلوں کو جانچا جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کے ان نو سال میں پانچ ہزار چھ سو پندرہ سکوائر کلومیٹر پر مشتمل قراقرم کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس ٹیم کی محقق جولی گارڈیل نے کہا کہ ’ہمیں اس کی وجہ نہیں معلوم۔‘ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی وجہ قراقرم کے اوپر ایک خاص طرح کا علاقائی موسم ہے۔ انہوں نے کہا ’لیکن اس مرحلے کے دوران یہ بھی ایک اندازہ ہے۔