003 - جن پہ تکیہ تھا

جن پہ تکیہ تھا

آنکھیں دیکھتی ہیں تو سمندر کی گہرائی سے موتی نکال لاتی ہیں۔

ایک خاص کلچر کی عکاسی کرتی تحریر

جن پہ تکیہ تھا

باغباں نےآگ دی جب آشیانے کو میرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

مجھے یہ شعر بہت پسند ہے۔ شائد اس لئے کہ اس میں تکیہ بھی استعمال ہوا ہے۔۔۔۔
دن بھر کی مصروفیت اور تھکاوٹ کے بعد جب رات آتی ہے۔ تو فورا دل چاہتا ہے، بندہ جلدی سے بستر پر چلا جائے اور اپنا سر تکیے پر ڈال دے۔
مجھے یاد ہے، بچپن میں جب ہمارا دوردراز علاقوں میں رشتہ داروں کے ہاں جانا ہوتا توان کی مہمان نوازی سے خوب لطف اندوز ہوتے۔ جب بھی کبھی ہم اس طرح مہمان بن کر گئے، تو خوب وہاں خاطر داریاں ہوتیں۔ سب رشتے داروں سے ملنا ملانا، اور اتنی دعوتیں ہوتیں۔ اور بہت سارے رشتہ داروں کے گھر رات کو قیام بھی ہوتا۔ تو جو بات مجھے متاثر کرتی وہ یہ کہ، جب رات کو وہ میزبان نئے نئے بستر مہمانوں
کے لئے لگاتے تو نئی بیڈ شیٹس، لحاف اور سفید تکیے رکھتے۔ تو ان سفید تکیوں پرپھول بنے ہوتے تھے جو ہاتھ کی مہارت اور تکیے کی خوبصورتی کو دوچند کر رہے ہوتے۔ مجھے بھی یہ بات بڑی خوش کن محسوس ہوتی کہ تکیے پر خوشنما پھول کاڑھے ہوئے ہوں تو وہ بستر پر پڑا کتنا خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

پر جو بات مجھے سب سے زیادہ اچھی لگا کرتی تھی۔ وہ یہ کہ تکیے پر پھولوں کے ساتھ لازمی ایک شعر بھی لکھا ہوتا تھا۔

اور یہی بات مجھے بہت متاثر کیا کرتی تھی۔ کہ زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود وہ رشتہ دار مجھے پھر بھی ادبی لوگ لگا کرتے تھے۔ ان کے اندر ایک ذوق نظر آتا۔ جو پہلے اپنے اس ذوق کو بڑے شوق سے تکیے پر اتارتے اور پھر بعد میں بڑے آرام سے اس ادب اور ذوق کو سر کے نیچے رکھ کر سو جاتے۔

تو میں آپ کو تکیے پر لکھے شعروں کے بارے میں بتا رہی تھی۔ تب میں بالکل ابتدائی کلاسوں میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن شائد میرے اندر شوق موجود تھا اس لئے کسی نہ کسی طرح لفظوں کو جوڑ کر شعر پڑھ لیا کرتی تھی، اور جب شعر مکمل ہو جاتا اور اس کا ایک واضح مطلب میرے سامنے آ جاتا۔ تو میرے اندر بھی ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ ایک تو شعر کو کامیابی سے جوڑ کر پڑھنے کی اور دوسرا کسی حد تک شعر کی روح تک پہنچ جانے کی، سو تب کا تکیے پر لکھا یہ شعر میرے ذہن میں ہے۔ آپ بھی پڑھیے۔۔۔

تکیہ لگانے والے میری یہ عرض سننا
سونے سے پہلے چند پھول نیکیوں کے چننا

مجھے یہ انوکھا آئیڈیا بڑا ہی پسند آتا کہ تکیے سے سلیٹ، کاپی یا کتاب کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ پھر خوبصورت رنگوں کے پھول اور اشعار اپنی طرف کھینچتے۔

لیکن ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ ان شعروں میں لازمی ایک اور چیز بھی نمایاں ہو رہی ہوتی۔ یہ نہیں کہ کوئی سا بھی شعر اٹھا کر تکیے پر دے مارا۔ بلکہ پھول کاڑھنے والے کا ذوق، تو اس شعر میں جھلک دیتا ہی۔ پر ان تکیے پر لکھے شعروں میں نیند، خواب ، آنکھیں یا تکیے کا ضرور ذکر ہوتا اورلازمی کوئی پیغام، یا نصیحت، یا مشورہ بھی چھپا ہوتا اور کبھی کبھی وارننگ بھی۔۔۔۔۔
جیسے اوپر والا شعر دوبارہ ملاحظہ کیجئے۔ اس میں آپ کو مذہبی ٹچ نظر آئے گا۔
یعنی تکیہ لگانے والے سونے سے پہلے ضرور کوئی نہ کوئی نیکی، دعا، استغفار کر لینا۔ ورنہ خدا نخواستہ اسی تکیے پر سوئے بھی رہ سکتے ہو۔
وقت کے ساتھ جب تھوڑا آگے نصاب کی کتاب ہاتھ میں لے کر بڑھی۔ تو اس تکیہ اور شعر والی بات کی صداقت میں کوئی شک شبہ نہ رہا۔ جب میں نے یہ شعر پڑھا
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

تب پتہ چلا کہ واقعی نیند اور سرہانے کا کتنا گہرا تعلق ہے۔ جب کہ یہ نہیں پتہ چل سکا کہ میر کیوں روتے روتے سویا ہے۔ لیکن شعر میں آپ سب کے لئے وارننگ موجود ہے۔ کہ وجہ جو بھی ہو لیکن آپ سب نے میر کے سرہانے بولنا آہستہ ہی ہے۔
میں نے شعروں کو پہلے والد صاحب کی زبانی جانا اس کے بعد انھیں تکیے کی سلیٹ پر پایا پھر نصاب کی کتابوں، میگزین اور پھر شاعری کی کتابوں میں پایا۔ سو میں بتدریج ان ہی ذرائع کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ہوں۔

آج وقت زمانہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے۔ کہ اشعار والے تکیے بھی ناپید ہو گئے ہیں۔ یقینا ان لوگوں کو بھی خوبصورت رائیٹنگ پیڈ مہیا ہو گئے ہوں گے۔ جن پر پہلے ہی خوبصورت پھول، تتلیاں، دل بلکہ ایسی چیزیں جن سے دل کے احساسات نمایاں ہو رہے ہوں، بنے ہوتے ہیں۔ بہر حال کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بزرگ کہتے ہیں وہ بڑے شرم و حیا کے زمانے تھے۔ لوگ اپنے جذبات دل کی گہرائیوں میں دبا لیتے تھے۔ پر میں سوچتی ہوں پھر بھی وہ لوگ کتنی خوبصورتی سے اپنی فیلنگز اپنے احساسات دوسروں تک پہنچا دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔

کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
اور پھر
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

یعنی جو رہ گیا، وہ پھر اگلے تکیے پر۔۔۔

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ واقعی وہ کتنے خالص زمانے تھے۔ کوئی بڑی بڑی ڈیمانڈز نہیں ایک تکیے پر شعر لکھ کروہ لوگ اپنے ذوق کی تسکین کر لیا کرتے تھے۔ اور دوسرے ادب کے رسیا اسی طرح شعر پڑھ کر خوش ہو لیا کرتے تھے۔
میرا آج بھی دل کرتا ہے۔ وہ زمانہ لوٹ آئے۔ اور میں بھی کسی شعر لکھے تکیے پر سر رکھ لوں۔ اور وہ احساسات محسوس کروں۔ جو وہ لوگ کرتے ہوں گے۔

پر اب کہاں وہ نیندیں، کہاں وہ سہانے سپنے اور کہاں وہ شعر والے تکیے
یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ شعر والے تکیے ایک خاص علاقے، خطے کا ہی رواج ہوں۔
وہ تو بس کبھی ہمارے کلچر کا ایک حصہ بنے تھے۔ اب تو وہ پس پردہ چلے گئے ہیں۔۔۔۔
٭٭٭٭٭