014 - زندگی کے موڑ پر

زندگی کے موڑ پر

نہیں اس میں کوئی منطق ہے یقیں کی بات ساری
کہ جہاں رکھا ہے پاؤں، وہاں راستہ تو ہو گا

زندگی ایک ایسا سٹیج ہے جس کی سیڑھی پر بہت دھیان سے پاوؤں رکھنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیدھی راہ چلتے چلتے اچانک کوئی موڑسامنے آ جاتا ہے۔ لیکن مڑتے ہی آگے ناکامی کی کھائی ہے یا کامیابی کی سیڑھی، اس کا پتہ نہیں چل پاتا۔ یہاں زندگی آپ کو قلابازی بھی کھلا سکتی ہے اور کامیابی کے لڈو بھی، لیکن ایسے موڑ زندگی میں آتے ضرور ہیں۔

اور زندگی میں اچھے دن بھی آتے ہیں اور برے دن بھی۔ خوش بختی اپنا دامن پھیلاتی ہے تو بدبختی بھی چلی آتی ہے، جب ہر چیز الٹ پلٹ ہونے لگتی ہے اور نروس بریک ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی خود کو بےبس سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ آج کی مشکل اور تیز رفتار زندگی میں اس قسم کی باتیں اب غیرمعمولی نہیں رہیں۔ اور تقریبا سبھی کو ہی مشکل اور ناپسندیدہ حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جو بندے کو حواس باختہ کر دیتا ہے، ذہن بالکل ماوف ہو جاتا ہے۔ اک بے بسی اور لاچاری کی کیفیت ہو جاتی ہے، اپنی صلاحیتوں پر گمان ہونے لگتا ہے۔

لیکن مہاتما بدھ نے مشکل اور دکھ کو زندگی کی بنیادی حقیقت قرار دیا تھا۔

اور مرزا غالب نے اس بارے کہا تھا کہ
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

ہم میں سے کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اپنی زندگی کے آخر تک بغیر دکھ تکالیف اٹھائے سفر کر سکتا ہے۔ اور ہزارجتن کے باوجود اپنی لامحدود خواہشات پوری کر پاتا ہو، کبھی معاشی دکھ گھیر لیتے ہیں، کسی وقت وسائل سے محروم ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی یہ لڑائی کبھی انفرادی طور پر لڑتے ہیں اور کبھی اجتماعی طور پر۔ چھوٹا موٹا دکھ ہو تو اپنی ذات پر لے لیتے ہیں بڑا ہو تو باقیوں کو بھی ساتھ سفر کراتے ہیں۔ پر ہر منزل میں کوئی نہ کوئی کانٹا ضرور چھپا ہوتا ہے۔

تو اب اس کا سد باب کیسے کیا جائے، ہنس کر کیا جائے یا رو کر یا واویلا مچا کر کیا جائے۔ اب یہ سب کا انفرادی معاملہ ہے۔ کچھ مہربان مشکل کی ان گھڑیوں کو زندگی کی حقیقت سمجھ کر ایک ٹھوکر سے سائیڈ پر کر دیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے۔ پر کچھ دل نادان و ناتواں ٹھٹک کر وہیں کھڑے ہو جائیں گے اور یہ مصیبت کی گھڑی ایک پہاڑ کی طرح ان کا راستہ روک لے گی۔

مگر گھبرائیے مت مصیبت کی اس گھڑی میں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ بعض دفعہ ہمیں انھیں اجتماعی طور پر بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ کوئی سماجی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے معاشرتی، قومی یا مذہبی بھی۔ اور پھر اس کے اندر پوری قوم انوالو ہو جاتی ہے اور پھر یہ دکھ، درد صرف انسانوں پر ہی حملہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ تو قوموں کے ساتھ ساتھ مذاہب پر بھی اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ اس زاویے کی گہرائی میں بہت سی دلچسپ معلومات سامنے آئیں۔ جیسے

بدھ مذہب میں ہے کہ
" اگر برا ہوتا ہے تو یہ واقعی برا نہیں ہوتا ہے۔"
ہاں، کہا جا سکتا ہے۔ دل کے بہلانے کوواقعی یہ خیال اچھا ہے۔ اگر اس طرح سوچا جائے تو تکلیف کی اذیت ختم ہو جائے گی۔ اور مشکل کا آنا بھی برا نہیں لگے گا اور سہنا بھی۔

ہندو مذہب کا اس طرح تکلیف مصیبت آنے بارے یہ سوچ ہے کہ
" اس سے پہلے بھی برا ہو چکا ہے۔"
واہ واہ کیا کہنے، مطلب کہ یہ کونسی اب نئی بات ہے۔ اب تک تو عادی ہو جانا چاہیئے۔

یہودی مذہب کے مطابق وہ اس برا ہونے کو اس طرح لیتے ہیں کہ
" یہ برا ہمیشہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔"
ہاں واقعی یہ گھمبیر بات ہے کہ ہم ہی کیوں؟ آخر ہم نے کیا بگاڑا ہے۔

اور کیتھولک مذہب والے کہتے ہیں کہ
" برا ہوتا ہے کیونکہ تم اسے ڈیزرو کرتے ہو۔"
یہ واقعی خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والی بات ہے۔

اسلام کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ
" اگر برا ہوتا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔"
بالکل درست کہا۔ یہی ہمارا ایمان ہے۔

آخر میں یہی کہوں گی کہ یہ زندگی تو اک امتحان ہے۔ جس کا پرچہ حل کرنے کے لیے قلم ہاتھ میں لے کر ہر وقت الرٹ رہنا پڑتا ہے تو اس بات کے لیے بھی تیار رہیئے نا کہ کبھی نمبر زیادہ آئیں گے اور کبھی کم۔

٭٭٭٭٭