019 - کمپیوٹر یا کتاب

کمپیوٹر یا کتاب
اچھی کتاب ایک بہترین دوست کی مانند ہے۔۔
ایک تجرباتی تحریر

آپ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنا چاہیں گے یا کمپیوٹر پر ؟
کتاب انسان کی بہت بڑی رفیق ہے، اس کی تنہائی کی بہترین ساتھی۔ علم اور انفارمیشن کا منبہ، انسان کے لطیف جذبات کا اظہار،جس گھر میں کتاب نظر نہ آئے۔ سمجھ لیں اس کے مکین جذبات سے عاری روبوٹ کی طرح زندگی جی رہے ہیں۔جس طرح ایک اچھا گیت انسان کی روح کو چھو لیتا ہے۔ ویسے ہی مطالعہ انسان کے من کو سیراب کرتا ہے۔ گیت کی روح تک پہنچنے کے لیے اس کی شاعری، اس کی موسیقی کے ردھم اور آواز کی مٹھاس کو محسوس کرنا پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح کتاب کو ہاتھ میں لے کر اسے محسوس کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کے مطالعے کے لیے بھی اک خاص اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ مقصد صرف پڑھنا ہی نہیں ہے، بلکہ کس طریقے سے پڑھنا ہے کہ پڑھنے کا صحیح مزا بھی آئے۔اس کے لیے آس پاس کے ماحول پر بھی تھوڑا دھیان دینا پڑتا ہے۔
پہلے وقتوں لوگ کتاب اور پڑھنے کی اہمیت پر بہت یقین رکھتے تھے۔ ان پڑھ عورت کو بھی ناخواندہ کہلانا پسند نہیں تھا۔ وہ بھی یہ ضرور بتاتی کہ وہ گرچہ سکول نہیں جا سکی لیکن بہشتی زیور ضرور پڑھی ہوئی ہے۔ پڑھائی کے یہ دو اکشر اس وقت اس کی ذات کی پہچان بننے کے کام آتے ۔اور ہر گھر میں ایک آدھ کتابوں کا ریکس، شیلف یا الماری ضرور نظر آتی۔ اور حیثیت والے احباب ثروت کے گھر میں کتابوں کی لائبریری بھی موجود ہوتی۔ اور پبلک لائبریریاں بھی تھیں۔پڑھنے والے اپنی علمی پیاس وہیں بجھایا کرتے تھے۔ اپنے دن رات کے کچھ گھنٹے بخوشی اس کی نذر کر دیا کرتے تھے۔لیکن تبدیلی تو لازم ہے۔دور جدید نے انسان کو بہت ساری سہولیات میسر کی ہیں۔الیکٹرانک میڈیا دیکھتے ہی دیکھتے چھا چکا۔ اور وقت نے یکدم ایسی کروٹ لی کہ کتابیں گھروں سے کم اور پھر غائب سی ہونے لگیں۔اور ان کی جگہ کمپیوٹر، موبائل، میوزک نے لے لی ۔وہ کتاب جسے پڑھ کر ایک قاری جھیل کی طرح شانت رہتا تھا اب اس کی زندگی اک پر شور ندی کی طرح بہنے لگی تھی۔ اور کتاب ہاتھ سے پھسل کر کمپیوٹر میں سما گئی۔ حالانکہ یہ بھی ایک پراسس تھا۔ جیسے کاغذ سے تعلق بندھنے پر دھڑا دھڑ کتابیں آ گئی تھیں۔ اور قاری سے اپنا ایک رشتہ بنا چکی تھیں۔ یقینا اب بھی اسی رشتے کو تجدید زمانہ دی گئی تھی۔ کتاب کو نیا پیرہن دیا گیا ۔۔ سو کچھ سالوں سے کتاب کمپیوٹر کی سکرین میں سما گئی ہے۔

پوری دنیا میں اس تبدیلی کو قبول کر لیا گیا۔ وہاں کتابوں کے شائقین کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ وہاں کتابیں آج بھی ہزروں، لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔ اور انٹرنیشل سطح پر بیسٹ سیلرز بکس بن جاتی ہیں۔ ترقی پسند ممالک میں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ چاہے لوگ اسے کمپیوٹر پر پڑھیں یا خرید کر ہارڈ کاپی میں، ان کے پاس اک چوائس موجودد رہتی ہے۔ ہمارے ملکوں میں تبدیلی آ کر بھی جلد تبدیلی نہیں آ پاتی۔ اور اس میں سمونے کے لیے بھی اچھا خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ سو ہمارے ہاں کا قاری کچھ گھبرا سا گیا ہے۔ گو ہمارے ہاں پڑھنا لکھنا اتنا کم نہیں ہوا۔کیونکہ اس کے بغیر تو کاروبار زندگی جام ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں سوچ میں فرق ضرور آ گیا ہے۔امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں اوسطا ایک سال میں آدمی سات کتابیں پڑھتا ہے، امریکہ میں چار اور پاکستان میں آدمی چار سال میں ایک کتاب پڑھتا ہے۔
جبکہ دیکھا جائے تو کمپیوٹر ویسے تو سب کی زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔ ای میلز، چیٹنگ، ویڈیوگیمز، ویب سرچنگ، آن لائن خریداری سب کچھ ۔۔ حتی کہ خاتون خانہ بھی پیچھے نہیں رہی۔ جو پہلے سالن بناتے ہوئے کتاب ہاتھ میں رکھتی تھی۔تکیے کے نیچے رکھ کر اسے اک اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی۔ اب اس کے پاس بھی پڑھنےکے دو دو آپشن موجود ہیں۔ اور وہ کچھ کشمکش کا شکار ہے کہ اب کتاب کمپیوٹر پر پڑھی جائے یا ہاتھ میں لے کر ؟ حالات کا تقاضا تو یہی ہے کہ وقت کے ساتھ چلا جائے بس کتاب میسر ہونی چاہیئے۔ بک شیلف نہ سہی پر کمپیوٹر گھر بیٹھے ہی ہمارے لیے اک لائبریری کا دروازہ ضرور کھول دیتا ہے۔اور اس کے لیے نہ تو ہزاروں خرچنے پڑتے ہیں اور نہ ہی کسی اور جگہ سے ڈھونڈنے کا جھنجھٹ اٹھانا پڑتا ہے اور نہ ہی کسی کو لائبریری دوڑانا پڑتا ہے۔پھر کیوں نہ کمپیوٹر کے آگے کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھنے کا لطف اٹھایا جائے۔ اور خود کو ترقی پسند قاری کا خطاب دلوایا جائے۔
لیکن ڈاکٹر کی گولی کی طرح اس کے بھی فوائد و نقائص ہیں۔انٹر نیٹ کے ذریعے کسی سائیٹ پر جا کر مانیٹر پر نظر جما کر آخر کتنی دیر مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔کرسی پر بیٹھے بیٹھے باڈی اکڑنے لگتی ہے۔ گردن میں کھنچاؤ پڑنے لگتا ہے۔ متواتر ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے آنکھیں بھی احتجاج کرنے لگتی ہیں۔ اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔اور اس وقت کتاب کے بے شمار فوائد سامنے آنے لگتے ہیں۔ کتاب کو جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ جب دل چاہے ادھر ادھر لے جا سکتے ہیں۔ کتاب در کتاب رکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ بیٹھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سفر کے دوران، انتظار کے جاں گسل لمحات میں پڑھ کر بوریت سے بچ سکتے ہیں۔ کتاب میں پھول رکھ کر محبت بھرا تحفہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ افسوس یہ سہولیات انٹرنیٹ پر کتاب کے لیے میسر نہیں۔ ہاتھ میں کتاب لے کر پڑھتے ہوئے قاری رائٹر کو یاد رکھتا ہے۔ اور انٹرنیٹ پر پڑھتے ہوئےاس کا دھیان اپنی بدنی تکالیف کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔اتنے تام جام کے بعد بھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ادبی کتابیں بہت کم اور محدود تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔
ان باتوں سے ماسواء مجھے یہی احساس ہوا کہ مطالعہ مجھے ہمیشہ اک سکون کی کیفیت عطا کرتا ہے۔ میں رات کو جب سونے سے پہلے بیڈ میں کتاب پڑھ نہ لوں، مجھے نیند نہیں آتی۔ گویا کتاب میرے لیے اک لوری اور سلیپنگ پلز کا کام کرتی ہے۔ تو کیا یہ چیز میرے لیے کمپیوٹر پر کتاب کرے گی ؟
پھر کبھی کبھی گھر میں ہلکی چہل قدمی کرتے ہوئے پڑھنے کا اپنا مزا ہے۔واک کی واک اور کتاب کا بھی ساتھ،
کبھی ریلکس چیئر پر کبھی ہلکی دھوپ میں بیٹھ کر۔۔
غرض مجھے پڑھنے کے لیے اک ماحول تیار کرنا پڑتا ہے۔اور میرے ہاتھوں کو اک عادت سی ہو چکی ہے۔کہ پہلے میں اپنی پسند کی کتاب کو ہاتھ میں لوں، بڑے پیار سے اس کے اوراق پلٹ پلٹ کر دیکھوں اور اک اپنائیت سی محسوس کروں۔اچھے قاری کی حیثیت سے رائٹر سے اپنا ایک رشتہ استوار کروں۔
اور کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے میں جو محسوسات ہیں وہ انٹرنیٹ پر پڑھنے میں مفقود ہیں۔ اک تشنگی سی باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں شکر ہی ادا کرتی ہوں۔کہ پڑھنے کے لیے کوئی نہ کوئی پلیٹ فارم، سلسلہ میسر تو ہے۔ ایسے نہ سہی ویسے ہی سہی۔ ممکن ہے بہت سے قاری کمپیوٹر پر کتاب پڑھنے میں آسانی محسوس کرتے ہوں۔ اگر آپ نے پہلے اس نکتے پر غور نہیں کیا تو آج کتاب پڑھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ ضرور کیجئے گا کہ ،
کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھی جائے یا کمپیوٹر پر ؟
٭٭٭